انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر ملک میں سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے

News

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر ملک میں سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے، سیاحت کے شعبہ میں انسانی وسائل کی کمی تربیت سے پوری کی جا سکتی ہے، سیاحت سے متعلق خدمات اور سہولیات میں بہتری سے اس شعبہ کو ترقی دی جا سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو پہاڑوں کے عالمی دن کی مناسبت سے ”پہاڑوں میں پائیدار سیاحت اور کھیلوں کی ترقی” کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ مجھے سیاحت کا بہت شوق ہے، پاکستان دنیا کے خوبصورت ممالک میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بدھ مت کے بے شمار مذہبی مقامات اور آثار ہیں، ملک میں مذہبی و ثقافتی سیاحت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، دریائے سندھ موہنجودڑو تہذیب کا مرکز رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی ماحول کے ساتھ وقت گزارنا انسان کی فطرت میں شامل ہے، سیاحت کے ساتھ ساتھ ماحول کو بھی بچانا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ سیاحتی مقامات پر دبائو بڑھا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ نامناسب منصوبہ بندی کی وجہ سے سیاحتی مقامات کا حسن خراب ہوا ہے، آلودگی اور تیزی سے تعمیرات کی وجہ سے بھی دلکش نظاروں کی خوبصورتی متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے پاکستان کو قدرتی حسن کی دولت سے مالامال کیا ہے، پاکستان کے فطرتی حسن کی وجہ سے دنیا بھر سے سیاح پاکستان آتے ہیں، کورونا وبا کے دوران عالمی سطح پر آمد و رفت بند ہونے کے باعث مقامی سیاحوں نے پاکستان کے قدرتی حسین مناظر دیکھنے کے لیے سیاحتی مقامات کا رخ کیا جس سے پاکستان کے قدرتی حسن کو تشہیر ملی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں حسین مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے سیاح کھنچے چلے آتے ہیں، گلگت بلتستان میں مقامی آبادی سے زیادہ سیاح سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں، مقامی آبادی ان سیاحوں کو اپنے گھروں میں قیام و طعام کی سہولت فراہم کرتی ہے، بینکوں کی جانب سے مقامی آبادی کو ان کے گھروں کی توسیع کے لیے بلاسود قرضے دیئے جا رہے ہیں، مقامی آبادی کو چھوٹے قرضے دے کر سیاحت کے شعبہ کے لیے سہولیات کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے، سیاحتی سہولیات کی طلب بہت زیادہ ہے لیکن اتنی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ سیاحت کے شعبہ سے متعلقہ انسانی وسائل کی قلت ہے، سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت لوگوں کو سیاحتی شعبہ سے وابستہ صنعتوں کی ٹریننگ دینے کی ضرورت ہے، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کی یونیورسٹیوں میں گائیڈز، ہوٹل مینجرز اور ڈرائیورز کے شارٹ کورسز کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاحتی شعبہ سے متعلق سہولیات اور انفراسٹرکچر میں بہتری لا کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سیاحت کی جانب راغب کیا جا سکتا ہے، وزیراعظم عمران خان خود سیاحت اور خوبصورت نظاروں کو پسند کرتے ہیں اور وہ ملک میں سیاحت کے فروغ کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک میں سیاحت کو تیزی سے فروغ دینے کا بہترین وقت ہے، ہمیں دنیا کو اپنے ملک کے خوبصورت مقامات دکھانے ہیں، اس سے ملک میں ریونیو بھی آئے گا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مینجنگ ڈائریکٹر پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آفتاب رانا نے سیاحتی شعبہ کی ترقی اور سرگرمیوں سے متعلق پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں سیاحت کے منظم فروغ کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، دس سالہ سیاحتی پالیسی، نیشنل ٹورازم سٹریٹجی 2020-30 تشکیل دی گئی ہے جبکہ اس پر عملدرآمد کے لیے پانچ سالہ پالیسی تشکیل دی گئی ہے، حکومت ملک میں مذہبی و ثقافتی سیاحت کے فروغ پر کام کر رہی ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق صدر الپائن کلب کرنل (ر) منظور حسین نے پاکستان کے خوبصورت پہاڑی سلسلوں، ان کو سر کرنے اور الپائن کلب کی کارکردگی سے متعلق بریفنگ دی۔ تقریب کے دوران کوہ پیما محمد علی سدپارہ مرحوم سمیت دیگر ہیروز کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والے کوہ پیمائوں میں ایوارڈز تقسیم کیے۔

Post a comment